ہم آپ کو جماعت رضائے مصطفےٰ پاکستان کی ویب سائٹ میں خوش آمدید کہتے ہیں ۔
Showing posts with label Raza-E-Mustafa Articles. Show all posts
Showing posts with label Raza-E-Mustafa Articles. Show all posts

Wednesday, 11 July 2012

Ramzan Ki Fazeelat (Urdu)


فضائل رمضان المبارک قرآن وحدیث کی روشنی میں
از : محمدحبیب الرحمان نیازی صاحب
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے اگلوں پر فرض ہوئے تھے کہ کہیں تمہیں پرہیز گاری ملے۔ گنتی کے دن ہےں تو تم میں جو کوئی بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں اور جنہیں اس کی طاقت نہ ہو وہ بدلہ دیں ایک مسکین کا کھانا پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے تو وہ اس کیلئے بہترہے اور روزہ رکھنا تمہارے لئے زیادہ بھلا ہے۔ اگر تم جانو رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اُترا لوگوں کیلئے ہدایت اور راہنمائی اور فیصلہ کی روشن باتیں تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمار یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں ۔ اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور اس لئے کہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بولو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت کی اور کہیں تم حق گزار ہو اور اے محبوب! جب تم سے میرے بندے پوچھےں تو میں نزدیک ہوں دعا قبول کرتا ہوں ' پکارنے والے کی جب مجھے پکارے تو انہیں چاہیئے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں کہ کہیں راہ پائیں۔ روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لئے حلال ہوا۔ وہ تمہارے لباس ہے اور تم ان کے لباس۔ اللہ نے جانا کہ تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے۔ تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف فرمایا تو اب ا ن سے صحبت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہو جائے ،سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پھوٹ کر پھر رات آنے تک روزے پورے کرو اور عورتوں کو ہاتھ نہ لگاؤ جب تم مسجدوں میں اعتکاف سے ہو۔ یہ اللہ کی حد یں ہیں ان کے پاس نہ جاؤ۔ اللہ یونہی بیان کرتا ہے لوگوں سے اپنی آیتیں کہ کہیں انہیں پرہیز گاری ملے۔ اور روزے والے اور روزے والیا ں اور اپنی پارسائی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور یاد کرنے والیاں ان سب کے لئے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔
حدیث ١:حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں جب رمضان آتا ہے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین زنجیروں میں جکڑا دئیے جاتے ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم )
حدیث
٢: حضرت سید نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں رمضان کی آخر شب میں اس اُمت کی مغفرت ہوتی ہے۔ عرض کی گئی کیا وہ شب قدر ہے فرمایا نہیں کام کرنے والے کو اس وقت مزدوری پوری دی جاتی ہے جب وہ کام پورا کرے۔(امام احمد)
حدیث٣: حضرت سید نا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا'' اگر کسی نے ایک دن نفل روزہ رکھا اور زمین بھر اُسے سونا دیا جائے جب بھی اس کا ثواب پورا نہ ہو گا ۔ اس کا ثواب تو قیامت ہی کے دن ملے گا''۔( ابویعلی و طبرانی )
حدیث ٤: حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا'' ہر شے کیلئے زکوٰۃ ہے اور بدن کی زکوٰۃ روزہ ہے اور روزہ نصف صبر ہے''۔(ابن ماجہ)
حدیث ٥: حضرت سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا جو بندہ اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے' اللہ تعالیٰ اُس کے منہ کو دوزخ سے ستر برس کی راہ دور فرما دے گا۔
حدیث ٦: حضرت سید نا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں روزہ دار کی دُعا افطار کے وقت ردّ نہیں کی جاتی''(بیہقی)
حدیث٧: حضرت سیدناابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں'' جس نے رمضان کا روزہ رکھا اور اُس کی حدود کو پہچانا اور جس چیز سے بچنا چاہیے اُس سے بچا تو جو پہلے کر چکا ہے اُس کا کفارہ ہو گیا''۔(ابن حبان و بیہقی)
حدیث٨: ابن خزیمہ نے حضرت سیدنا ابومسعود غفاری رضی اللہ عنہ سے ایک طویل حدیث روایت کی ' اُس میں یہ بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اگر بندوں کو معلوم ہوتا کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری اُمت تمنا کرتی پورا سال رمضان ہی ہو۔

Monday, 26 March 2012

Hayat-un-Nabi S.A.W

حیا ت ا لنبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم
از: جناب حبيب الرحمان نيازى قادرى رضوى
قرآن و حدیث کی روشنی میں اہلسنّت وجماعت کا یہ عقیدہ ہے کہ حضور نبی اکرم نور مجسم شفیع معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی قبر انور میں بحیاتِ حقیقی (مع جسم) زندہ ہیں۔قانون قدرت کے مطابق موت کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر طاری ہوا اورآپ کو قبر انور میں اُتاراگیا قانونِ قدرت پورا ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اُسی طرح مع جسم زندہ و سلامت ہیں ۔
قرآن پاک:
  النبی اولی بالمومنین من انفسھم۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مسلمانوں کی جانوں سے زیادہ ان کے قریب ہیں۔  (پ
٢١، رکوع ١٧، سورہ الاحزاب ، آیت ٦)
٭ ولو انھم اذ ظلموا انفسھم جاء وک فاستغفرواللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما
o
 اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبو ب تمہارے حضورحاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کوبہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔  (پ ٥، سورہ النساء ، آیت ٦٤)
حدیث شریف :حضرت سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر جمعہ کے رو ز درود شریف کی کثرت کیا کرو ، کیونکہ اس دن ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور بے شک جب بھی کوئی مجھ پر درود شریف پڑھتا ہے تو وہ درود شریف اس کے فارغ ہوتے ہی مجھ پر پیش کر دیا جاتاہے ۔ حضرت ابودرداء کہتے ہیں میں نے عرض کیا''کیا وفات کے بعد بھی ؟'' تو آپ ؐنے ارشاد فرمایا ''ہاں وفات کے بعد بھی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر نبیوں کے جسموں کا کھانا حرام کر دیا ہے ۔ پس اللہ کا نبی زندہ ہوتا ہے اسے رزق بھی دیا جاتا ہے''۔ (ابن ماجہ شریف ص
١١٩، مشکوٰۃ شریف کتاب الصلوٰۃ باب الجمعہ)
٭حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''اللہ کے سارے نبی زندہ ہیں اپنی قبروں میں نمازیں پڑھتے ہیں''۔(مسند ابویعلیٰ موصلی جلد
٦ ، ص ١٤٧، شفاء السقام ص ١٧٩، فتح الملھم شرح صحیح مسلم جلد ١، ص ٣٢٩)
سیدی اعلیٰ حضرت کیا خوب عقیدہ بیان فرماتے ہیں کہ: 
 انبیاء  کو بھی اجل آنی ہے   مگر  ایسی کہ فقط  آنی  ہے
پھراُسی انکے بعد انکی حیات مثل سابق وہی جسمانی ہے
آج کل اگر کسی کو مسلمان کرنا ہو توہم اُسے کلمہ پڑھا کر مسلمان کرتے ہیں ۔ کلمہ طیبہ کا ترجمہ ''اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ کے رسو ل ہیں''۔ لفظ ''ہیں'' ہمیشہ زندہ و موجود کیلئے آتا ہے ' مردہ کیلئے نہیں آتا ۔ پانچ وقت نماز وںیں بھی زندہ و حاضر و ناظر نبی ؐکی خدمت میں سلام عرض کیا جاتا ہے ۔ ''اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم آپ پر سلام ہواور اللہ کی رحمتیں ''۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر معاذ اللہ حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم زندہ نہیں ہیں تو کلمہ شریف ' نماز' اذان وغیرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو کیوں پکارا جاتا ہے؟
شہید کے بارے میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ شہید زندہ ہے اُسے مردہ گمان بھی نہ کرو ۔ کیا شہید کو موت نہیں آتی؟ کیا اُس کا جنازہ نہیں پڑھا جاتا ؟ کیا اُسے قبر میں دفن نہیں کیا جاتا؟ سب کچھ کرنے کے باوجود قرآن پاک کا حکم ہے کہ اُسے مردہ نہ کہو وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہے اور اُسے روزی دی جاتی ہے ۔لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔ (پارہ
٤ آلِ عمران آیت ١٦٩)
جس نبی ؐکا کلمہ پڑھنے والا ایک عام اُمتی شہید ہونے کے بعد زندہ ہے تو اس پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ کا عالم کیا ہوگا؟ جہاں خداکی خدائی ہے وہاں پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بادشاہی ہے۔ آپ کی نبوت و رسالت کا دور کبھی ختم نہیں ہو گا ۔قیامت تک کلمہ، اذان ، نماز (وغیرہ) میں آپ کے نام کا سکہ جاری رہے گا ۔ جو بدبخت 'بدعقیدہ آپ کی حیات مبارکہ کا انکار کرتا ہے وہ قرآن و احادیث مبارکہ کا منکر ہے۔ وہ کلمہ ،اذان ، نماز میں آپ کا نام لینا چھوڑ دے یا اپنے غلط عقیدہ سے توبہ کر لے۔

Saturday, 17 March 2012

خداچاہتا ہے رضائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم

خداچاہتا ہے رضائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم

از : الحاج مولانا مفتی ابوداود محمد صادق صاحب مدظلہ
اعتراض::۔
منکریں شان رسالت دیوبندی وہابی لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب مستطاب "تجلی الیقین" میں جو روایت نقل کی ہے "اے محمد! سب میری رضا چاہتے ہیں اور میں تیری رضا چاہتا ہوں" اس کی کوئی اصل و حوالہ کیا ہے؟۔مطلع فرمائیں۔
الجواب::۔
 اگرچہ اعلی حضرت فاضل بریلوی جیسی بالغ النظر وسیع المطالعہ مستند شخصیت کا لکھنا ہی اپنی جگہ دلیل و حوالہ ہے لیکن مخالفین پر اتمام حجت کےلئے بیک وقت اس کا ڈبل حوالہ ملاحظہ ہو"فتاویٰ رشیدیہ"صفحہ 374میں ہے۔
سوال::۔ایک روایت بطور حدیث ملک میں مشہور ہے ۔بعض علماء کو دیکھا ہے کہ خطبہ میں بھی پڑھتے ہیں ۔بعض رسالوں میں بھی اس کو دیکھا ہے ۔یہاں تک کہ تکمیل الایمان شیخ عبدالحق محدث دہلوی میں بھی تحت مسئلہ شفاعت مندرج ہے ۔مگر کسی جگہ اس کی سند نہیں دیکھی گئی اور نہ کسی کتاب حدیث شریف سے منقول پایا اور وہ روایت یہ ہے۔۔۔۔
کلھم یطلبون رضائی وانا اطلب رضاک یا محمد صلی اللہ علیہ وسلم
آیا یہ روایت معتبر ہے یا غیر معتبر اوراس کے معنی کیا ہیں اور معنی اس کے مطابق شرع شریف کے ہیں یا نہیں۔ 
جواب::۔ اس کی سند صحت بندہ کو معلوم نہیں اورجو اس کے معنی آیت کریمہ" ولسوف یعطیک ربک فترضی " ترجمہ (اور آگے دے گا تجھ کو تیرا رب پھر تو راضی ہو گا۔) کے لیے جائیں تومعنی صحیح ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم
مقتدائے علماء دیوبند مولوی::.
مولوی رشید احمد گنگوہی کے فتاوی رشیدیہ کا حوالہ بیک وقت دو اہم حوالوں کا مجموعہ ہے۔ پہلا تو یہی گنگوہیصاحب کا حوالہ جنہوں نے اپنے محد ود علم کے مطابق سندوصحت معلوم ہونے کے باوجود روایت کو ضعیف و موضوع و شرک و غیرہ قراردے کر مسترد کرنے کی بجائے اس معنوی طور پر قرآن کی آیت سے صحیح مطابق شرع قرار دیا ہے کہ "ولسوف ےعطیک ربک فترضی"کامفہوم بھی یہی ہے کہ رب تعالیٰ اپنے حبیب کریم کی رضا چاہتا ہے سب کو اپنی مرضی ے سے عطا کرتا ہے اور پیار ے حبیب کو عطا کرتا ہے تو ان کی رضا کے مطابق جب تک ان کی رضا پوری نہ ہوگی رب کی عطا میں کمی نہ ہوگی ۔
شان محبوبیت::۔
 دیوبندی وہابی علماء کے شیخ الہند مولوی محمود الحسن دیوبندی کے مذکورہ ترجمہ قرآن کے حاشیہ پر دیوبندی شیخ الاسلام مولوی شبیر احمد عثمانی نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے کہ "تیرا رب تجھ کو دنیا و آخرت میں اس قدر دولتیں اور نعمتیں عطا فرمائے گا کہ تو پوری طرح مطمئن اور راضی ہو جائے گا"۔
حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محمد راضی نہ ہو گا جب تک اس کی امت کا ایک آدمی بھی دوزخ میں رہے۔"لا ارضی واحد من امتی فی النار"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بارگاہ الہٰی میں کیا محبوبونہ نازوانداز اور امے پر شفقت ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں محمد راضی نہ ہو گا جب تک امت کا ایک آدمی بھی دوزخ میں رہے قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ شان محبوبیت اور رضائے مصطفےٰ کی اہمیت جبکہ دوسری طرف انہی دیابنہ وہابیہ کا منافقانہ عقیدہ باطلہ "تقویۃالایمان" میں یوں لکھا ہے کہ"جس کا نام محمد ہے وہ کسی کےچیز کا مختار نہیں" ۔۔۔"پیغمبروں کی خواہش کچھ نہیں چلتی"۔ رسول کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا"۔
                        (تقویۃ الایمان از اسماعیل دہلوی صفحہ 24،49،71 )
کہاں وہ شان محبوبیت اور کہاں یہ نجدی خرافات۔
دوسرا حوالہ:۔
"فتاویٰ رشیدیہ"کے حوالہ میں دوسرا اس سے بھی بہت بڑھ کر اہم حوالہ شیخ المحدثین شیخ محقق علامہ محمد عبدالحق محدث دہلوی کا حوالہ ہے جنہوں نے اپنی کتاب "تکمیل الایمان"میں یہ روایت نقل فرمائی ہے
کلھم یطلبون رضائی وانا اطلب رضاک یا محمد
اے محمد!سب میری رضا چاہتے ہیں اور میں تیری رضا چاہتا ہوں۔اور یہی وہ حقیقت ہے جسے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی نے بدیں الفاظ اردو جامہ پہنایا ہے کہ 
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا  چاہتا  ہے  رضائے  محمدؐ
اور اسی کے تحت تبرکاً اہلسنت و جماعت کے بین الاقوامی محبوب و مقبول ترجمان کا نام ماہنامہ "رضائے مصطفےٰ" رکھا ہے جو بفضلہٖ تعالی اسی نام کی برکت و نسبت سے نصف صدی سے زائد عرصہ سے شائع ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ ماشاء اللہ۔بارک اللہ۔الحمدللہ تعالیٰ
اگرچہ اعلیٰ حضرت کی بیان کردہ روایت کا ماخذ و حوالہ ہم نے قرآن وحدیث اور محالفین کی کتب سے متعددمزید حوالوں سے ثابت کر دیا ہے مگر موضوع کی اہمیت اور مضمون کی تکمیل کےلئے مزید حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔
علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ::۔
نے "فضیلت سید المرسلین"میں بدیں الفاظ یہی روایت نقل فرمائی ہے۔
یا محمد کل احد یطلب رضائی وانا اطلب رضاک
اے محمد!ہر ایک میری رضا چاہتا ہے اور میں تیری رضا چاہتا ہوں۔
نزہۃ المجالس(جلد2،صفحہ135):۔
 میں علامہ عبدالرحمٰن صفوری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی علامہ ابن جوزی کے مذکورہ حوالہ سے نقل کیا ہے۔ نیز امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے یہ روایت بھی نقل فرمائی ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرمایا 
الکلیم یعمل برضاءمولاہ والحبیب یعمل مولاہ برضائہ
کلیم مولیٰ کی رضا پر عمل کرتا ہے اور مولیٰ حبیب کی رضا پر حکم فرماتا ہے۔
تفسیر کبیر(جلد4،صفحہ106):۔
میں فخرالمفسرین امام فخرالدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی آیت کریمہ(ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے۔اس قبلہ کی طرف جس میں تمہاری رضاوخوشی ہے۔)کے تحت نقل کیا ہے 
یا محمد کل احد یطلب رضائی وانا اطلب رضاک فی الدارین
یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا جس قبلہ میں میری رضا ہے بلکہ فرمایا:اے حبیب تمہیں اس قبلہ کی طرف پھر دیں گے جس میں تیری رضا ہے۔سبحان اللہ
اللہ اکبر! رب اکبر اپنے رسول کی رضا کا خود طالب ہے۔ خدارا! غور تو کرو کہ خدا خداوند عرش عطیم تو رضائے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا طالب ہے اور تم خوشنودئ خیر الانام کا انکار کر رہے ہو۔اب تو پڑھئے
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا  چاہتا  ہے  رضائے  محمدؐ

Blogger Widgets
Blogger Widgets